داڑھی کَٹوانے والے کےپیچھے نماز کاحکم

سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ جوشخص داڑھی مونڈے یاایک مٹھی سے کم کرےاس کےپیچھے نمازپڑھنے کاکیاحکم ہے؟رہنمائی فرمائیں۔

 
 

جواب:  پوری ایک مُشت داڑھی رکھناواجب ہےاورمنڈانایاایک مٹھی سے کم کروانادونوں حرام وگناہ ہیں اورایساکرنے والا فاسقِ مُعلِن ہے اور فاسقِ مُعلِن  کوامام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی یعنی پڑھناگناہ ہےاوراگرپڑھ لی ہوتواس کااعادہ واجب ہے۔غُنیۃمیں ہے:”لَوْقَدَّمُوْافَاسِقاً یَأثِمُوْنَ بِنَاءً عَلیٰ أَنَّ کَرَاھَۃَ تَقْدِیْمِہٖ کَرَاھَۃٌ تحریمٌ“یعنی اگرکسی فاسق کومقدم کیاتووہ گناہگارہوں گےاس بناء پرکہ فاسق کومقدم کرنامکروہ تحریمی ہے۔ (غنیۃالمستملی،ص513)

     فتاویٰ رضویہ میں ہے:”داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت   ممنوع و گناہ ہے “(فتاویٰ رضویہ، 6/505)

وَاللہُ اَعْلَمُعَزَّوَجَلَّوَرَسُوْلُہ اَعْلَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *