میرادماغی مسئلہ ہے،روحانی علاج بھی کروایا ہے ،لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا،میں یہاں ابوظہبی میں رہتی ہوں،تومجھے ماہرنفسیات کےڈاکٹرکودکھاناپڑناہے،جوکہ ہندوہے تومیراہندوڈاکٹرسے علاج کرواناکیسا ہے؟

سوال: میرادماغی مسئلہ ہے،روحانی علاج بھی کروایا ہے ،لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا،میں یہاں ابوظہبی میں رہتی ہوں،تومجھے ماہرنفسیات کےڈاکٹرکودکھاناپڑناہے،جوکہ ہندوہے تومیراہندوڈاکٹرسے علاج کرواناکیسا ہے؟

جواب: غیرمسلم طبیب سے علاج کرواناجائزتوہے لیکن فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کچھ وجوہات کی بناپر اس سے بچنے کاہی حکم ارشادفرماتے ہیں،بطورِ خاص اندرونی علاج کہ جس میں کافر کا فریب چل سکے اس میں علاج سے بچا جائے خصوصاً ایسا مسلمان جو مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتاہے اور کافروں کیلئے اس مسلمان کا مرجانا بہت خوشی اور فائدے کاباعث ہو ایسے مسلمان کو کافر سے علاج ہرگز نہیں کرانا چاہیے۔

(دعوت اسلامی)

کیا سیدمحبت میں اپنی غيرسیدہ بیوی کے پیر چوم سکتے ہیں؟

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *