اگر کوئی بندہ کسی کو دھوکہ دیا مثلاً جھوٹ بولا قرض وغیرہ لیا لیکن وہ بندہ اب نہیں مل رہاتو کیا کیا جائے؟

سوال: اگر کوئی بندہ کسی کو دھوکہ دیا مثلاً جھوٹ بولا قرض وغیرہ لیا لیکن وہ بندہ اب نہیں مل رہاتو کیا کیا جائے؟

جواب:کسی مسلمان کو دھوکہ دینا ،جھوٹ بولنا سخت ناجائز و حرام ہے ،جو قرض لیا اسے واپس کرنا ضروری ہے،البتہ اگر قرض خواہ کا علم نہ ہو تو خوب تلاش و بسیار کے بعد بھی اس کا علم نہ ہو پائے  ،مال بھی موجود ہو تو اس  مال کو صدقہ کرنا لام ہے۔

(دعوت اسلامی)

ماء مشکوک کسے کہتے ہیں ؟

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *