سر الاسرار کتاب میں حدیث ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو بے ریش نوجوان کی صورت میں دیکھا،اس کا کیا مطلب ہے ؟

سوال: سر الاسرار کتاب میں حدیث ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو  بے ریش  نوجوان کی صورت میں  دیکھا،اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب:اس حدیث مبارک کی وضاحت اس کتاب(سرالاسرار) کے مصنف حضورشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے خودفرمائی چنانچہ وہ فرماتے ہیں :’’شاید اس ارشاد گرامی میں نوجوان سے مرادطفل معانی ہواوراللہ تعالیٰ نے اس صورت میں آئینہ روح پر بلاکسی واسطے کے تجلی فرمائی ہو ۔ورنہ اللہ تعالیٰ تو صورت،مادہ ،جسم کے خواص سے پاک ہے ۔صورت دکھائی دینے والے کے لئے آئینہ ہے۔وہ نہ تو خود شیشہ  ہے اور نہ خود دیکھنے والا ہے ۔پس اس نکتے کوسمجھنے کی کوشش کیجئے یہ بہت گہرا راز ہے‘‘(سرالاسرار،ص129،زاویہ پبلیشرز،لاہور)

(دعوت اسلامی)

حاملہ کو طلاق ہو جاتی ہے؟

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *