سوال:قربانی کے جانورپرسوارہونایااسے اُجرت پردیناکیساہے؟
جواب:قربانی کے جانورپرسوارہونایااسے اُجرت پردینا منع ہے اور اگر کسی نے اجرت لے لی تواس پر لازم ہے کہ اس کو صدقہ کردے۔اور اگر کرایہ پرتو نہیں دیا لیکن اپنے استعمال میں لایا سامان اٹھایا ،ہل چلوایا وغیرہ تو اجرتِ مثل صدقہ کرنی ہوگی۔
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
’’ولایرکبھاولایحمل علیھاشیئاَولایوٗجرھا فان فعل تصدق باالاجرۃ‘‘
یعنی نہ تو قربانی کے جانور پر سوار ہواور نہ اس پر کوئی چیز لادے اورنہ ہی اس جانورکواجرت پردے لیکن اگراس نے اس کے خلاف کیاتواگراس کی اجرت لی ہو تو اس کا صدقہ کرے۔
( دُرمختارمع رد المحتار، کتاب الاضحیۃ،ج9،ص475)
بہارِ شریعت میں ہے:
’’اورقربانی کے جانورپرسوارہونایااس پرکوئی چیزلادنایااس کواجرت پردینا غرض اس سے منافع حاصل کرنامنع ہے…اوراجرت پرجانورکودیاہے تواجرت کو صدقہ کرے اوراگرخودسوارہوایااس پرکوئی چیزلادی تواس کی وجہ سے جانورمیں جوکچھ کمی آئی اتنی مقدار میں صدقہ کرے ‘‘۔
(بہارِ شریعت،ج3،حصہ15،ص347)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
ذبح میں مستحبات کیاکیاہیں؟