سوال: پہلی رکعت میں اگر مقتدی اس وقت شامل ہواجب امام پہلی رکعت کی زائدتکبیریں کہہ چک اتھا تو اس وقت میں مقتدی زائد تکبیریں کب کہے گا؟
جواب:پہلی رکعت میں امام کے تکبیر کہنے کے بعدمقتدی شامل ہواتواسی وقت تین تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام نے قرأت شروع کر دی ہواوراگراس نے ابھی تکبیریں نہ کہیں تھیں کہ امام رکوع میں چلاگیاتوکھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے اوررکوع کی تکبیرکہے اوراگرمقتدی ایسے وقت میں آیاکہ اس نے امام کورکوع میں پایااورغالب گمان یہ ہوکہ تکبیریں کہہ کرامام کورکوع میں پالے گاتوکھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھررکوع میں شامل ہوجائے ورنہ تکبیرکہہ کررکوع میں چلاجائے اوررکوع میں تکبیریں کہہ لے پھر اگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھالیا توجتنی باقی رہ گئیں تھیں ،سب ساقط ہوگئیں اور اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تواب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب اپنی پڑھے اس وقت کہے اور رکوع میں جہاں تکبیر کہنا بتایاگیاہے اس میں ہاتھ نہ اٹھائے بلکہ بغیرہاتھوںکواٹھائے ہی تکبیریں کہے۔
بہارِ شریعت میں ہے:
’’پہلی رکعت میں امام کے تکبیر کہنے کے بعد مقتدی شامل ہواتواسی وقت تین تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام نے قرأت شروع کر دی ہواورتین ہی کہے اگرچہ امام نے تین سے زیادہ کہی ہوں اوراگراس نے تکبیریں نہ کہیں کہ امام رکوع میں چلاگیاتوکھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیر کہہ لے اگرامام کورکوع میں پایااورغالب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کرامام کورکوع میں پالے گاتو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھررکوع میں جائے ورنہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیریں کہے پھراگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھالیا تو باقی ساقط ہوگئیں اوراگرامام کے رکوع سے اٹھنے کے بعدشامل ہواتواب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب اپنی پڑھے اس وقت کہے اوررکوع میں جہاں تکبیرکہنابتایاگیااس میں ہاتھ نہ اٹھائے اوراگردوسری رکعت میں شامل ہواتوپہلی رکعت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑاہواس وقت کہے اوردوسری رکعت کی تکبیریں اگرامام کے ساتھ پاجائے فبھاورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کے بارہ میں ہے ‘‘۔
(بہارِ شریعت ،ج1،حصہ 4،ص782)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)