ابو محمد کنیت رکھنا کیسا ہے؟

سوال: ابو محمد کنیت رکھنا کیسا ہے؟

 جواب:  ابو محمد کنیت رکھنا جائز ہے ، شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

   اللہ عزوجل کے نبی حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام کی کنیت   ابو محمد ہے۔(فتاوی رضویہ ،ج30،ص194، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اورمتعدد صحابہء کرام و بزرگانِ دین کی کنیت ابو محمد ہے ۔چنانچہ

   صاحبِ صحیح مسلم، امام مسلم بن حجاج القشیری  علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب :”الکنی والاسماء  “کے باب ابو محمد، میں تقریبا پونے دو سو ان صحابہ و تابعین و بزرگان دین کے نام ذکر کیے ہیں ،جن کی کنیت ابو محمد ہے، جن میں سے چندصحابہ کے  نام یہ ہیں:

   ☆ حضرت طلحہ بن عبيد الله☆  حضرت عبد الرحمن بن عوف☆  حضرت حسن بن علي☆ حضرت جبير بن مطعم ☆ حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص☆ حضرت عبد الله بن أبي أوفي☆حضرت عبد الله بن زيد الانصاری☆ حضرت عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق۔ (رضوان اللہ علیھم اجمعین )ان سب صحابہ کی کنیت ابو محمد ہے ۔ 

       ان میں سے چند مشہور تابعین کے نام یہ ہیں : ☆حضرت سعید بن مسیب☆ حضرت عبد الرحمن بن الحارث بن هشام المخزومي☆حضرت عطا بن أبي رباح☆حضرت عطاء بن يسار☆ حضرت عمرو بن دينار المكي☆ حضرت نافع بن جبير بن مطعم (رضی اللہ تعالی عنھم )ان سب تابعین کی کنیت ابو محمد ہے ۔(ماخوز از الکنی والاسماء،حرف المیم،باب ابو محمد ج2، ص 717تا724،مطبوعہ: بیروت)

   اسی طرح حضور سیدنا ومرشدنا عبد القادر الجیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت  بھی ابو محمد ہے ۔(فتاوی رضویہ،ج10، ص179 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور،غوثِ پاک کے حالات، ص 15، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *