سوال: بندہ کسی پیر سے طالب ہو ،تو کیا اس پیر سے فیض حاصل کر سکتا ہے ؟کیا اس پیر کا تصور کر سکتاہے ،اس سے اپنے پیر کی بیعت میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟
جواب: جامع الشرائط پیر کا مرید ہونے کے با وجود کسی اور پیر کامل کا طالب بنا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور جس کا طالب بناہے اس سے کا فیض بھی اسے پہنچنا شروع ہو جائے گا اور طالب ہونے کے بعد اس پیر سے فیض حاصل کرنے اور اس کا تصور کرنے سے اپنے جامع شرائط پیر کی بیعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔البتہ بہتر یہی ہے کہ اپنے پیر کا ہی تصور کرے اور جو بھی فیض حاصل ہو ا سے اپنے اصل پیر کا فیض ہی جانے۔