غیر مسلم کوکاروبار میں اپنا پارٹنر بنانا جائز ہے یا نہی؟اوراگر اس نے انویسٹمنٹ کی رقم سود پر لی ہو تو پھر کیا حکم ہوگا؟

سوال: غیر مسلم کوکاروبار میں اپنا پارٹنر بنانا جائز ہے یا نہی؟اوراگر اس نے انویسٹمنٹ کی رقم سود پر لی ہو تو پھر کیا حکم ہوگا؟

جواب: غیر مسلم کو کاروبار میں پارٹنر بنانا جائز تو ہے البتہ کوشش یہ کی جائے کہ پارٹنر ایسے شخص کو بنایا جائے جو صحیح العقیدہ مسلمان ،شریعت کی پابندی کرنے ولا ہو۔

اگر غیر مسلم انویسمنٹ کی رقم سود پر حاصل کرتا ہے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں ۔

(دعوت اسلامی)

ہجڑے کو زکوٰ ۃ کی رقم دینا کیسا ہے؟

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *