سمجھدار نابالغ بچہ کفر بک دے تو کیا حکم ہے ؟

سوال: سمجھدار نابالغ بچہ اگر  صریح کفر بک دے ،تو کیا حکم ہے؟

  جواب: سمجھدار نابالغ بچے کا بھی کفر و اسلام معتبر ہے ،لہٰذا اگر سمجھدار نابالغ بچہ صریح کفر بک دے ،تو وہ کافر و مرتد ہوجائے گا۔ اس پر بھی توبہ و تجدید ایمان لازم ہے۔

   چنانچہ امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی لکھتے ہیں: ”نابالغ سمجھدار کا کفر و اسلام معتبر ہے ۔ميرے آقااعلیٰ حضرت ، امام اہلسنّت، مجددِ دين وملّت مولانا شاہ احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:سمجھداربچہ اگر اسلام کے بعد کفر کرے ،تو ہمارے نزدیک وہ مرتد ہوگا۔ ” (ماخوذ ازفتاوٰی افریقہ ص 16) معلوم ہوا بالغ یا سمجھدار نابالغ کفر کرے تو مرتد ہوجائے گا ۔ “(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ57،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

   مزید لکھتے ہیں: ” سات برس یا زیادہ عمر کا بچہ جو کہ اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو وہ اگر کفر  کرے گا تو کافر ہو جائے گا کیونکہ اُس کا کفر و اسلام معتبر ہے۔ “(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 58،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *