“چاند جن کی بلائیں لیتا ہے “اس مصرعہ کاحکم

 سوال:کیا اس شعر کا تیسرا مصرعہ(چاند جن کی بلائیں لیتا ہے)کیایہ کفریہ ہے؟

اللہ اللہ حضور کی باتیں       مرحبا رنگ و نور کی باتیں

چاند جن کی بلائیں لیتا ہے      اور تارے سلام کہتے ہیں

  جواب: جواب:یہ شعرکفریہ نہیں ہے ۔ بلائیں لینا ،بطور محاورہ بولا جاتا ہے، اس کا معنی واری جانا، صدقے جانا اور قربان ہونا ہے۔ یعنی اس شعر کا مطلب یہ ہو گا کہ :”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم الشان اورسراپاحسن ذات ہیں، جن پر چاند بھی واری جاتا اور قربان ہوتا ہے۔”

   فیروز اللغات میں ہے”بلائیں لینا: (محاورہ ) واری جانا، صدقے جانا، قربان ہونا“(فیروز اللغات، ب، ل، صفحہ 224، فیروزسنز،لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *