مکہ مکرمہ میں 20 دن قیام کا ارادہ ہو مگر دس دن پر جعرانہ سے عمرہ کرنے کا بھی ارادہ ہو تو حاجی مسافر ہوگا یا مقیم؟

سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص شرعی سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں ایامِ حج سے قبل  20 دن کے ارادے سے داخل ہو، لیکن ساتھ ہی اس کی یہ نیت بھی ہو کہ میں 10 دن بعد عمرے کا احرام باندھنے مکہ مکرمہ سے باہر مقامِ جعرانہ جاؤں گا۔ تو کیا اُس کا یہ سفر دو حصوں میں تقسیم ہوگا؟ اور وہ شخص مکہ مکرمہ میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟؟

جواب:   پوچھی گئی صورت میں اُس شخص کی نیت مسلسل پندرہ راتیں مکہ مکرمہ میں قیام کی ہے اور اقامت میں رات ہی کا اعتبار ہوتا ہے، لہذا وہ شخص مکہ مکرمہ پہنچتے ہی مقیم ہوجائے گا ،  اُس کی اقامت کی نیت درست ہوگی۔ دس دن بعد جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھنے کے ارادے سے بھی اس کی اقامت باطل نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کا یہ سفر دو حصوں میں تقسیم ہوگا کیونکہ یہ مسافت 92 کلومیٹر سے کم ہے۔ البتہ  اگر وہ شخص دن ہی دن میں مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر یا اس سے دور کسی مسافت پر چلا جائے تو ضرور اس کی اقامت باطل ہوجائے گی اور وہ مسافر ہوجائے گا لیکن ہماری صورت میں ایسا نہیں ہے۔

   تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ شرعی مسافر کسی بھی شہر میں مسلسل پندرہ دن قیام کی نیت کرلے تو  وہاں پہنچ کر مقیم ہو جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہاں  پندرہ دن کی نیت سے مراد پندرہ راتیں گزارنے  کی نیت ہے کہ اقامت میں معتبر رات بسر کرنا ہے، مسافر دن چاہے مدتِ سفر سے کم فاصلے پر کہیں بھی گزارے اگرچہ کہ سفر کی ابتداء ہی میں اُس کی یہ نیت ہو کہ وہ دن کہیں اور گزارے گا کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کسی اور شہر میں دن گزارنے کی نیت تسلسل سے مانع نہیں،  اس سے واضح ہوا کہ  پوچھی گئی صورت میں وہ شخص مکہ مکرمہ میں نماز میں قصر نہیں کرے گا۔

   کسی شہر میں پندرہ دن کی نیت کرلینے سے مسافر مقیم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ بحر الرائق وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے :”أما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر، وهو ينتقض بواحد من ثلاثة بالأصلي،لأنه فوقه وبمثله وبالسفر لأنه ضده “یعنی وطن اقامت  سے مراد وہ وطن  ہے جس  میں مسافر  پندرہ دن رہنے کاارادہ کرے ،جبکہ وہ  جگہ اقامت کے قابل ہو۔وطن اقامت تین چیزوں  میں سے ایک  کےساتھ  باطل ہوجاتاہے۔ وطن اصلی کےساتھ  ، کیونکہ  وطن اصلی اس سے بڑھ کر ہوتاہے ،اوروطن اقامت کےساتھ اور سفرشرعی کےساتھ کیونکہ  سفر اقامت کی ضد ہے۔(بحر الرائق ، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 239، مطبوعہ کوئٹہ)

   مقیم ہونے کے لیے پندرہ راتیں مسلسل ایک جگہ پر گزارنے کی نیت ضروری ہے ،اگرچہ دن کسی دوسری جگہ پر گزارے۔ جیسا کہ رد المحتار، فتاوٰی عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور  ہے:’’والنظم للاول“ فان دخل اولاً الموضع الذی المقام فیہ نھاراً  لا یصیر مقیماً ، و ان دخل اولاً ما نوی المبیت فیہ یصیر مقیماً ، ثم بالخروج الی الموضع الآخر لا یصیر مسافراً ؛ لان موضع اقامۃ الرجل حیث یبیت بہ، حلیۃ ‘‘ یعنی اگر کسی شخص نے دو بستیوں میں پندرہ دن اقامت کی نیت کی اور پہلے اس جگہ داخل ہوا جس جگہ  دن گزارنا تھا، تو مقیم نہیں ہو گا اور اگر پہلے اس جگہ داخل ہوا جس میں رات بسر کرنے کی نیت تھی، تو مقیم ہو جائے گا۔ پھر دوسری جگہ کی طرف نکلنے سے مسافر نہیں ہو گا، اس لیے کہ آدمی کی اقامت کی جگہ وہ ہے، جہاں وہ رات گزارے،حلیہ۔(ردالمحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج02،ص126،مطبوعہ بیروت)

   بحرالرائق میں اس سےمتعلق مذکور ہے:’’ اذا نوی ان یقیم باللیل فی احدھما فیصیر مقیماً بدخولہ فیہ لان اقامۃ المرء تضاف الی مبیتہ  یقال فلان یسکن فی حارۃ  کذا و ان کان بالنھار فی الاسواق  ثم خرج الی الموضع الآخر لا یصیر مسافراً    ‘‘یعنی  جب وہ شخص دونوں جگہوں میں سے ایک میں رات میں قیام کی نیت کرے ،تو وہ اس جگہ میں داخل ہونے سے مقیم ہو جائے گا جہاں اس نےنے رات بسر کرنی ہے ، اس لیے کہ آدمی کی اقامت کی نسبت  رات بسر کرنے کی جگہ کی طرف ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں اس محلے میں رہتا ہے، اگرچہ وہ دن میں بازار جاتا ہے، پھر دوسری جگہ کی طرف جانے سے وہ شخص مسافر نہیں ہو گا۔(بحرالرائق، کتاب الصلاۃ، ج02،ص232، مطبوعہ کوئٹہ)

   سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ جدالممتار میں اس متعلق فرماتے ہیں: ”اقول: الحق ان التوالی شرط فانہ لو نوی ان یقیم ھاھنا اسبوعاً فی اول کل شھر لا یکون مقیماً ھاھنا ابداً و الخروج قسمان: احدھما:  الخروج نھاراً او لیلاً الی موضع آخر مع المبیت ھاھنا، فھذا لا یقطع التوالی؛ لان مقامک ھو مبیتک، الا تری ! انک تسال التاجر عن مقامہ فیقول فی المحل الفلانی مع کونہ کل یوم نھاراً بالسوق“ترجمہ: ” میں کہتا ہوں: حق یہ ہے کہ تسلسل شرط ہے۔ اگر نیت کرے کہ ہر مہینے کی ابتدا میں ایک ہفتہ یہاں مقیم رہے گا۔ وہ کبھی بھی یہاں مقیم نہیں ہو گا۔ خروج(نکلنے) کی دو قسمیں ہیں۔ دونوں میں پہلی قسم : دن یا رات میں دوسری جگہ کی طرف اس نیت کے ساتھ نکلنا کہ رات یہاں گزارے گا تو یہ تسلسل کو منقطع نہیں کرے گا،اس لیے تیری اقامت کی جگہ وہ ہے، جو تیرے رات گزارنے کی جگہ ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب تو تاجر سے اس کی قیام گاہ کے بارے میں پوچھے، تو وہ کہے گا فلاں محلہ،  باوجود یہ کے کہ وہ ہر روز دن میں بازار میں ہوتا ہے۔“(جدالممتار، کتاب الصلاۃ، ج03،ص567-566، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

   سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جب تک کسی خاص جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت الہ آباد میں کر لی ہے، تو اب الہ آباد وطنِ اقامت ہو گیا نماز پوری پڑھی جائے گی جب تک وہاں سے تین منزل کے ارادہ پر نہ جاؤ، اگرچہ ہر ہفتہ پر بلکہ ہر روز الہ آباد سے کہیں تھوڑی تھوڑی دور یعنی چھتیس ۳۶ کوس سے کم باہر جانا اور دن کے دن واپس آنا ہو جبکہ نیت کرتے وقت اس پندرہ دن میں کسی رات دوسری جگہ شب باشی کا ارادہ نہ ہو،ورنہ وہ نیت پورے پندرہ دن کی نہ ہو گی، مثلاً: الہ آباد میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کی اور ساتھ ہی یہ معلوم تھا کہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہو گا ،تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا ،اگرچہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع  میں، بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو اور اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگرچہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا، تو اقامت صحیح ہو گئی نماز پوری پڑھی جائے گی، جبکہ وہ دوسری جگہ الہ آباد سے چھتیس کوس یعنی ستاون اٹھاون میل کے فاصلے پر نہ ہو۔ “(فتاوٰی رضویہ،ج08،ص251، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

   فتاوٰی رضویہ میں ہے :”وطن اقامت یعنی جہاں پندرہ دن یا زیادہ  قیام کی نیت صحیحہ کرلی  ہو آدمی کو مقیم کردیتاہے ۔“(فتاوٰی  رضویہ ،ج08 ،ص262، رضا فاونڈیشن ، لاہو ر)

   بہار شریعت  میں نیت اقامت صحیح ہونے کی شرائط میں ہے:  پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو ، اس سے کم ٹھہرنے کی نیت سے مقیم نہ ہوگا۔‘‘( بہار شریعت ، ج01 ، ص 744 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

 

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے