قراٰن پاک سامنے یا کمر کے پیچھے ہو تو نماز کا حکم؟

سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بند قراٰن پاک نمازی کے سامنے ہو یا بالکل کمر کے پیچھے ہو تو نماز ہو جائے گی؟

 
 

جواب:  نماز میں نمازی کے سامنے یا کمر کے پیچھے قراٰن پاک رکھا ہونے کی صورت میں نماز تو ہوجائے گی کہ یہ وجہِ فساد نہیں، البتہ جب سامنے ایسی جگہ رکھا ہوکہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے حالتِ قیام میں سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنے کی صورت میں نمازی کو وہ نظر آئے اور اُس پر موجود نقش و نگار اور لکھائی وغیرہ نمازی کی توجہ کے بٹنے کا سبب بنے تو مکروہ ہے۔اسی طرح قراٰن پاک کو پیٹھ کرنا بھی خلافِ ادب ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُعَزَّوَجَلَّوَرَسُوْلُہ اَعْلَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے