جان بوجھ کر تین جمعے چھوڑنا

سوال: اگر کوئی شخص جان بوجھ کر تین بار جمعہ چھوڑ دے، تو کیا وہ کافر ہو جائے گا؟

جواب: جمعہ فرضِ عین ہے،اس کی فرضیت ظہرکی نمازسے زیادہ موکدہے ،جواس کی فرضیت کاانکارکرے وہ کافرہے اور ، جس شخص پر جمعہ فرض ہو، اس کافرض مانتے ہوئے بغیر عذرِ شرعی جان بوجھ کر جمعہ چھوڑ دینا، سخت ناجائز و حرام اور کبیرہ گناہ ہےلیکن وہ کافرنہیں ہوگا، احادیث طیبہ میں اس پر بہت سی وعیدات بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور جو لوگ جمعہ سے پیچھے رہ گئے، ان کے گھروں کو جلا دوں۔ (صحیح مسلم)

   اور تین جمعے چھوڑنے کے متعلق فرمایا: جو تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا۔(جامع ترمذی)

   ایک اور روایت میں ہے: جو تین جمعے بلا عذر چھوڑے، وہ منافق ہے۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان)

   نوٹ:مذکورہ حدیث پاک میں ایسے شخص کوجو منافق کہا گیا، اس حدیث کا مطلب ہے کہ یہ عمل منافقوں کے عمل جیسا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

عشاکی سنت قبلیہ کی قضا کا حکم

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے