سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع مَتین اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے والد نے سونے کی جیولری لے کر میری شادی کے لئے میری ملک کردی ہے ابھی شادی نہیں ہوئی ، اس جیو لری پر جو زکوۃ بنتی ہے وہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں ، تو کیا میں وہ زیور اپنی نابالغ بھانجی کی ملک کرسکتی ہوں تاکہ اس پر زکوٰۃ نہ بنے ؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ پر لازم ہے کہ اسی سونے سے یا پھر اس کو بیچ کر یاقرض لے کر زکوٰۃ ادا کریں ، زکوٰۃ سے بچنے کے لئے حیلہ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔
غمز عیون البصائر میں ہے : ”الفتوى على عدم جواز الحيلة لإسقاط الزكاة وهو قول محمد رحمه الله تعالىٰ وهو المعتمد “ ترجمہ : اسقاطِ زکوٰۃ کے لئے حیلہ کرنے کے ناجائز ہونے پر فتویٰ ہے اور یہی امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ کا قول ہے ، اور اسی پر اعتماد ہے۔ ( غمز عیون البصائر ، 4 / 222 )
فتاوی رضویہ میں ہے : ” ہمارے کتبِ مذہب نے اس مسئلہ میں۔۔۔۔صاف لکھ دیا کہ فتوٰی امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں ، امام الائمہ سراج الامہ حضرت سیدنا امامِ اعظم رضی اللہُ عنہ کا مذہب بھی یہی مذہبِ امام محمد ہے کہ ایسا فعل ممنوع و بَد ہے۔( فتاوی رضویہ ، 10 / 189 ، 190 )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم