سوال: حضور جو زیورات ہیں وہ میکے سے عورت نہیں لائی بلکہ عورت کو سسرال میں زیورات ملے ہیں اور عورت کو شوہر کی والدہ نے شادی کے وقت دئیے تھے، لیکن اب شوہر عورت سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ زیورات جو سسرال میں ملے ہیں وہ پہن سکتی ہے اس کو بیچ کر زکوة نہیں دے سکتی اب عورت کیا کرے؟کون گناہ گار ہوگا عورت تو چاہ رہی ہے کہ زکوة دے اور قرض لیکر بھی نہیں دے سکتی کیونکہ عورت جب قرض لے گی تو پھر قرض کیسے ادا کرے گی؟
جواب:پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے صرف استعمال کے لئے زیور دیا ہے ،مالک نہیں بنایا تو اس وجہ سے عورت پر زکوٰۃ بھی لازم نہیں،لیکن اس صورت میں جو اس کا مالک ہے اس پر زیور کے خود یا دیگر اموال زکوٰۃ (چاندی،کرنسی،مال تجارت)سے مل کر نصاب تک پہنچنے اور زکوٰۃ کی دیگر شرائط کے پائے جانے پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔
اوراگر شوہر نے عورت کو مالک بنا دیا اس طرح کہ تم اسے استعمال کرو ،رکھ بیچو جو مرضی کرو تم اس کی مالک ہو، تو اس صورت میں عورت ان زیورات کی مالک کہلائے گی اورعورت پر زیورات کی وجہ سے جب زکوٰۃ لازم ہوگی تو اس پر ادا کرنابھی لازم ہے ،بغیر ادا کئے بری الذمہ نہیں ہوگی اوراس صورت میں اگراس کے پاس کوئی رقم نہیں جس سے زکوٰۃ ادا کرسکے اورشوہرزیوربھی بیچنے نہیں دیتایایہ عورت قرض لے کر اتار نہیں سکتی ،تو اس صورت میں اس کاشوہر اپنی جیب سے اس کی اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردے ،اگر اس کی بھی صورت نہ بنے تو بہر صورت عورت پر اس زیور کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہی رہے گا ،چاہے اسے بیچ کر ادا کرے یا قرض لے کر کرے۔